Untitled Document
رابطہ آپکی رائے

ماہنامہ دارلعلوم

 ماہنامہ ترجمان القرآن خواتین کا صفحہ بچوں کا صفحہ سائنسی خبرنامہ

عالمی خبریں

ہوم  
Untitled Document
تفسیرِقرآن مجید 
معارفِ القرآن جلد اول
ترجمہ قرآن مجید 
قرآت قرآن مجید 
احادیث کی کتابیں
سوانح حیات
 
سیرت امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ
 
 

 

صفحہ سوئم

صفحہ دوئم

 

سوانح حیات

 

سوانح حیات امام المسلمین، قدوة الموحدین ، امیرالمحدثین حضرت امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ علیہ اسلام کے ان مایہ ناز فرزندوں میں سے ہیں جن کا نام نامی اسلام اور قرآن کے ساتھہ ساتھہ دنیا میں زندہ رہے گا۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانچ پڑتال، پھر ان کی جمع و ترتیب پر آپ کی مساعی جمیلہ کو آنے والی تمام مسلمان نسلیں خراج تحسین پیش کرتی رہیں گی۔ آپ کا ظہور پر سرور عین اس قرآنی پیش گوئی کے مطابق ہوا جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمائی تھی۔ واخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم (سورہ الجمعہ 3) یعنی زمانہ رسالت کے بعد کچھہ اور لوگ بھی وجود میں آئیں گے جو علوم کتاب وحکمت کے حامل ہوں گے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ یقینا ان ہی پاک نفوس کے سرخیل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آل فارس میں سے کچھہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ اگر دینی علوم ثریا ستارے پر ہوں گے تو وہاں سے بھی وہ ان کو ڈھونڈ نکالیں گے۔

 

نام و نسب و پیداءش

 

آپ کے والد ماجد حضرت العلام مولانا اسماعیل صاحب رحمہ اللہ اکابر محدثین میں سے ہیں۔ کنیت ابوالحسن ہے۔ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے اخص تلامذہ میںسے ہیں۔ اور حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے علاوہ حماد بن زید رحمہ اللہ اور ابو معاویہ ”عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ “ وغیرہ سے آپ نے احادیث روایت کی ہیں۔ احمد بن حفص رحمہ اللہ ، نصر بن حسین رحمہ اللہ وغیرہ آپ کے شاگرد ہیں۔ اس قدر پاکباز ، متدین ، محتاط تھے خاص طور پر اکل حلال میں کہ آپ کے مال میں ایک درم بھی ایسا نہ تھا جسے مشکوک یا حرام قرار دیا جا سکے۔ ان کے شاگرد احمد بن حفص کا بیان ہے کہ میں حضرت مولانا اسماعیل کی وفات کے وقت حاضر تھا۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میں اپنے کمائے ہوئے مال میں ایک درم بھی مشتبہ چھوڑ کر نہیں چلا ہوں۔

امام بخاری قدس سرہ شہر بخارا میں بتاریخ 13شوال 194ھ نماز جمعہ کے بعد پیدا ہوئے۔ یہ فخر امت میں کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہے کہ باپ بھی محدث ہو اور بیٹا بھی محدث بلکہ سیدالمحدثین۔ اللہ تعالیٰ نے یہ شرف حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو نصیب فرمایا جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ”کریم ابن الکریم ابن کریم“ کہا گیا ہے اسی طرح حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بھی محدث ابن المحدث قرار پائے۔ مگر صد افسوس کہ والد ماجد نے اپنے ہونہاز فرزند کا علمی زمانہ نہیں دیکھا اورآپ کو بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی تربیت کی پوری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آگئی جو نہایت ہی خدا رسیدہ عبادت گزار شب بیدار خاتون تھیں۔ والدین کی علمی شان و دینداری کے پیش نظر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت امام کی تعلیم وتربیت کس انداز کے ساتھہ ہوئی ہو گی۔

 

اولین کرامت

 

 فنجار نے تاریخ بخارا میں اور لاسکائی نے شرح السنہ باب کرامات الاولیاء میں نقل کیا ہے کہ بچپن میں حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کی بصارت جاتی رہی تھی۔ والدہ ماجدہ کے لئے اپنی بیوگی ہی کا صدمہ کم نہ تھا کہ اچانک یہ سانحہ پیش آیا ۔ اطباء علاج سے عاجز آ گئے ۔ والدہ ماجدہ اپنے یتیم بچے کی اس حالت پر رات دن روتیں اور دعا کرتیں۔ آخر ایک رات بعد عشاء مصلی ہی پر روتے اور دعا کرتے ہوئے آپ کو نیند آگئی۔ خواب میں خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور بشارت دی کہ ”تمہارے رونے اور دعا کرنے سے اللہ پاک نے تمہارے بچے کی بینائی درست کر دی ہے“ صبح ہوئی تو فی الواقع آپ کی آنکھیں درست تھیں۔ بعد میں اللہ پاک نے آپ کو اس قدر روشنی عطا فرمائی کہ ”تاریخ کبیر“ کا پورا مسودہ آپ نے چاندنی راتوں میں تحریر فرمایا۔

تاج الدین سبکی نے طبقات کبریٰ میں لکھا ہے کہ دھوپ اور گرمی کی شدت میں حضرت امام نے طلب علم کے لئے سفر فرمایا تو دوبارہ آپ کی بینائی ختم ہو گئی ۔ خراساں پہنچنے پر آپ نے کسی حکیم حاذق کے مشورہ سے سر کے بال صاف کرائے اور گل خطمی کا ضماد کیا۔ اس سے اللہ پاک نے آپ کو شفائے کامل عطا فرمائی۔ دس سال کی عمر تھی کہ آپ مکتبی تعلیم سے فارغ ہوگئے۔ اور اسی ننھی عمر سے ہی آپ کو احادیث نبوی یاد کرنے کا شوق دامن گیر ہو گیا اور آپ مختلف حلقہ ہائے درس میں شرکت فرمانے لگے۔

 

ستر ہزار احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ ایک ہونہار نوجوان

 

 ان دنوں شہر بخارا میں علوم قرآن و حدیث کے بہت سے مراکز تھے۔ جہاں قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ حضرت امام ان مراکز سے استفادہ فرمانے لگے۔ ایک دن محدث بخارا حضرت امام داخلی رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں شریک تھے کہ امام داخلی نے ایک حدیث کی سند بیان کرتے وقت سفیان عن ابی الزبیر عن ابراھیم فرما دیا۔ امام بخاری بولے کہ حضرت یہ سند اس طرح نہیں ہے کیونکہ ابو الزبیر نے ابراہیم سے روایت نہیں کی ہے۔ ایک نو عمر شاگرد کی اس گرفت سے محدث بخارا چونک پڑے اور خفگی کے لہجے میں آپ سے مخاطب ہوئے۔ آپ نے استاد محترم کا پورا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے بڑی آہستگی سے فرمایا کہ اگر آپ کے پاس اصل کتاب ہو تو اس کی طرف مراجعت فرما لیجئے۔ علامہ نے گھر جا کر اصل کتاب کو ملاحظہ فرمایا تو امام بخاری کی گرفت کو تسلیم فرما لیا اور واپسی پر اس سند کی تصحیح کے بارے میں آپ سے سوال کیا۔ امام بخاری نے برجستہ جواب دیا کہ صحیح سند یوں سے سفیان عن الزبیر وھوابن عدی عن ابراھیم۔ اس وقت حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی عمر صرف گیارہ سال کی تھی۔ انہی ایام میں آپ نے بخارا کے اٹھارہ محدثین سے فیوض حاصل کرتے ہوئے بیشتر ذخیرہ احادیث محفوظ فرما لیا تھا۔ امام وکیع اور امام عبداللہ بن مبارک کی کتابیں آپ کو برنوک زبان یاد تھیں ۔ علامہ داخلی کے ساتھہ واقعہ مذکورہ سے بخارا کے ہر علمی مرکز میں آپ کا چرچا ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ بڑے بڑے اساتذہ کرام آپ کے حفظ و ذہانت کے قائل ہونے لگے۔ علامہ بیکندی علیہ الرحمہ جو ایک مشہور محدث بخار ہیں۔ فرمایا کرتے تھے کہ میرے حلقہ درس میں جب بھی محمد بن اسماعیل آجاتے ہیں مجھہ پر عالم تحیر طاری ہو جاتا ہے۔ ایک دن ان علامہ کی خدمت میں ایک بزرگ سلیم بن مجاہد حاضر ہوئے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ذرا پہلے آجاتے تو ایک ایسا ہونہار نوجوان دیکھتے جسے ستر ہزار حدیثیں حفظ ہیں۔ سلیم بن مجاہد یہ سن کر حیرت زدہ ہوگئے۔ اور حضرت امام کی ملاقات کے اشتیاق میں نکلے ۔ ملاقات ہوئی تو حضرت امام بخاری نے فرمایا کہ نہ صرف ستر ہزار بلکہ ان سے بھی زائد احادیث مجھے یاد ہیں۔ بلکہ سلسلہ سند ، حالات رجال سے جیسا بھی سوال کریں گے جواب دوں گا حتی کہ اقوال صحابہ و تابعین کے بارے میں بھی بتلا سکتا ہوں کہ وہ کن کن آیات قرآنی و احادیث نبوی سے ماخوذ ہیں۔ (مقدمہ فتح الباری

 

ستر ہزار احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ ایک ہونہار نوجوان

 

طلب حدیث کے لئے بلاد اسلامیہ کی رحلت لفظ رحلت کے لغوی معنی کوچ کرنے کے ہیں مگر اصطلاح محدثین میں یہ لفظ اس سفر کے لئے اصطلاح بن گیا ہے جو حدیث یا حدیث کی کسی سند عالی کے لئے کیا جائے۔

صحابہ و تابعین ہی کے بابرکت زمانوں سے اکابرامت میں یہ شوق پیدا ہو گیا تھا کہ وہ علوم کی تحصیل کے لئے دور دور تک کا سفر کرنے لگے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے مسلمانوں کا ایک گروہ ضرور دینی علوم کی تحصیل و فقاہت کے لئے گھر سے باہر نکلنا چاہیے۔ اسی کی تعمیل کے لئے محدثین کرام رحم اللہ اجمعین کمر بستہ ہوئے اور انہوں نے اس پاکیزہ مقصد کے لئے ایسے ایسے کٹھن سفر اختیار کئے کہ وہ دنیا کی تاریخ میں بے مثال بن گئے۔

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے سفر کے سلسلہ میں مرو ، بلخ، ہرات ، نیشا پور، رئے وغیرہ بہت سے دور دراز شہروں کے نام آئے ہیں۔ آپ نے طلب حدیث کے لئے تقریبا تمام ہی اسلامی ممالک کا سفر فرمایا ۔

جعفر بن محمد خطان کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ میں نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے احادیث سنی ہیں۔ اور میرے پاس جس قدر بھی احادیث ہیں ان کی سندیں اور رواة کے جمیع احوال مجھے محفوظ ہیں۔

 

سفر حج

 

سید المحدثین امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ علیہ اپنی عمر کے سولہویں سال 210ھ میں اپنی والدہ محترمہ اور محترم بھائی احمد کے ساتھہ سفر حج پر روانہ ہوئے اور مکہ المکرمہ پہنچے۔ آپ نے اس مرکز اسلام میں بڑے بڑے علمائے کرام و محدثین سے ملاقات فرمائی،

اور حج کے بعد والدہ محترمہ کی اجازت سے تحصیل علوم حدیث کے لئے مکہ ہی میں سکونت اختیار کی۔ اس وقت مکہ شریف کے ارباب علم و فضل میں عبداللہ بن یزید ، ابوبکر عبداللہ بن الزبیر، ابوالولید احمد بن الارزقی اور علامہ حمیدی وغیرہ ممتاز شخصیتوں کے مالک تھے۔

آپ نے پورے دو سال مکہ المکرمہ میں رہ کر ظاہری و باطنی کمالات حاصل فرمائے اور 212ھ میں مدینہ المنورہ کا سفر اختیار فرمایا اور وہاں کے مشاہیر محدثین کرام مطرف بن عبداللہ، ابراہیم بن منذر ، ابو ثابت محمد بن عبیداللہ ، ابراہیم بن حمزہ وغیرہ وغیرہ بزرگوں سے اکتساب فیض فرمایا۔

بلاد حجاز میں آپ کی اقامت چھ سال رہی ۔ پھر آپ نے بصرہ کا رخ فرمایا۔ اس کے بعد کوفہ کا قصد کیا۔ حضرت وراق بخاری نے کوفہ اور بغداد کے بارے میں آپ کا یہ قول نقل کیا ہے ”میں شمار نہیں کر سکتا کہ کوفہ اور بغداد میں محدثین کے ہمراہ کتنی مرتبہ داخل ہوا ہوں۔

بغداد چونکہ عباسی حکومت کا پایہ تخت رہا ہے اس لئے وہ علوم و فنون کا مرکز بن گیا تھا۔ بڑے بڑے اکابر عصر بغداد میں جمع تھے۔ اسی لئے امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے بار بار بغداد کا سفر فرمایا۔ وہاں کے مشائخ حدیث میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ کا نام نامی خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔

آٹھویں مرتبہ جب حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بغداد سے آخری سفر کرنے لگے تو حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے بڑے پر درد لہجے میں فرمایا ”کیا آپ لوگوں کو اوربغداد کے اس زمانہ کو اور یہاں کے علوم و فنون کے مراکز کو چھوڑ کر خراسان چلے جائیں گے؟“ بخارا کے ابتلائی دور میں جب کہ وہاں کا حاکم آپ سے ناراض ہو گیا تھا، آپ حضرت امام احمد رحمہ اللہ کے اس مقولہ کو بہت یاد فرمایا کرتے تھے۔

 
 

صفحہ سوئم

صفحہ دوئم

 
Untitled Document
islamic pictures
 
 
Untitled Document
رابطہ آپکی رائے ماہنامہ دارلعلوم  ماہنامہ ترجمان القرآن خواتین کا صفحہ بچوں کا صفحہ سائنسی خبرنامہ عالمی خبریں ہوم  
s