Untitled Document
رابطہ آپکی رائے

ماہنامہ دارلعلوم

 ماہنامہ ترجمان القرآن خواتین کا صفحہ بچوں کا صفحہ سائنسی خبرنامہ

عالمی خبریں

ہوم  
Untitled Document
تفسیرِقرآن مجید 
معارفِ القرآن جلد اول
ترجمہ قرآن مجید 
قرآت قرآن مجید 
احادیث کی کتابیں
سوانح حیات
 
سیرت امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ
 
 

 

صفحہ سوئم

صفحہ١ول

 

اٹھارہ سال کی عمر میں تصانیف اور حافظہ

 

امام بخاری رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں کہ جب میری عمر 18 سال کی تھی تو میں نے کتاب قضایائے صحابہ و تابعین نامی تصنیف کی ، پھر میں نے مدینہ منورہ میں روضہ منورہ کے پاس بیٹھہ کر تاریخ تصنیف کی جسے میں چاندنی راتوں میں لکھا کرتا تھا۔ پھر میں نے شام اور مصر اور جزیرہ اور بغداد و بصرہ کا سفر کیا۔
حاشد بن اسماعیل آپ کے ہم عصر کہتے ہیں کہ آپ بصرہ میں ہمارے ساتھہ حاضر درس ہوا کرتے تھے۔ محض سماعت فرماتے اور کچھہ نہ لکھتے ۔ آخر سولہ دن اسی طرح گزر گئے ایک دن میں نے آپ کو نہ لکھنے پر ملامت کی تو آپ بولے کہ اس عرصہ میں جو کچھہ تم نے لکھا ہے اسے حاضر کرو اور مجھہ سے ان سب کو برزبان سن لو۔۔ چنانچہ پندرہ ہزار احادیث سے زیادہ تھیں جن کو امام بخاری نے صرف اپنی یادداشت سے اس اہتمام سے سنایا کہ بہت سے مقامات پر ہم کو اپنی کتابت میں تصحیح کرنے کا موقعہ ملا۔ابوبکر بن ابی عتاب ایک بزرگ محدث فرماتے ہیں کہ ہم سے امام بخاری نے حدیث لکھی اوراس وقت تک ان کی داڑھی مونچھہ کے بال نہیں نکلے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن یوسف فریابی نے 212ھ میں انتقال فرمایا اس وقت امام بخاری کا سن اٹھارہ برس یا کم تھا۔
محمد بن ازہر سختیانی نے کہا کہ میں سلمان بن حرب کی مجلس میں تھا اور امام بخاری ہمارے شریک درس تھے مگر احادیث کو قلمبند نہیں کرتے تھے ۔ لوگوں نے اس پر استعجاب کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بخارا جا کر اپنی یاد سے ان سب احادیث کو ضبط کر لیں گے۔
یوسف بن موسیٰ مروزی کہتے ہیں کہ میں بصرہ کی جامع مسجد میں تھا کہ حضرت امام المحدثین کی تشریف آوری کا اعلان کیا گیا۔ لوگ جوق در جوق آپ کے لائق شان استقبال کو جانے لگے جن میں مَیں بھی شامل ہوا۔ اس وقت حضرت امام بخاری عالم شباب میں تھے۔ بے حد حسین ، سیاہ ریش۔ آپ نے پہلے مسجد میں نماز ادا فرمائی پھر لوگوں نے ان کو درس حدیث کے لئے گھیر لیا۔ آپ نے دوسرے روز کے لئے درخواست منظور فرمالی۔ چنانچہ دوسرے دن بصرہ کے محدثین و حفاظ جمع ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ بصرہ والو! آج کی مجلس میں تم کو اہل بصرہ ہی کی روایت پیش کروں گا جو تمہارے ہاں نہیں ہیں۔ پھر آپ نے اس حدیث کا املاء کرا دیا ۔ حدثنا عبداللہ بن عثمان بن جبلة بن ابی رواد العقلی ببلدکم قال حدثنی ابی عن شعبة عن منصور وغیرہ عن سالم بن ابی الجعد عن انس بن مالک ان اعرابیا جآءالی النبی صی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ الرجل یحب القوم ۔۔۔ الحدیث حدیث املاء کرا کر ارشاد فرمایا کہ اے اہل بصرہ یہ حدیث تمہارے پاس منصور کے واسطہ نہیں۔ اور اسی شان کے ساتھہ آپ نے گھنٹوں اس مجلس کو بہت سی احادیث املاء کرائیں ۔ آپ کی قوت حافظ سے متعلق بہت سے واقعات مورخین نے نقل کئے ہیں۔ جن کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل کتاب تیار ہو سکتی ہے۔

 

خانگی پاکیزہ زندگی ، اخلاص واتباع سنت

 

سید المحدثین امام المتقین فدائے سنن سید المرسلین حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کو اپنے والد ماجد مولانا محمد اسماعیل رحمہ اللہ علیہ کے ترکہ سے کافی دولت حاصل ہوئی تھی۔ آپ نے اس پاکیزہ مال کو بصورت مضاربت تجارت میں لگا دیا تھا۔ تاکہ خود تجارتی جھمیلوں سے آزاد رہ کر بہ سکون قلب خدمت حدیث نبوی علیہ فداہ ابی وامی کر سکیں۔

اللہ پاک نے اس تجارت کے ذریعہ آپ کو فارغ البالی عطا فرمائی تھی۔ باوجود اس کے ایام طالب علمی میں آپ نے بے انتہا فقر کیشی برداشت کیں۔ اور کسی مرحلہ پر بھی صبر و شکر کو ہاتھہ سے نہ جانے دیا۔ وراق بخاری کے بیان کے مطابق ایک دفعہ حضرت امام اپنے استاد آدم بن ابی ایاس کے پاس طلب حدیث کے لئے تشریف لے گئے مگر توشہ ختم ہو گیا۔ اور سفر میں تین دن متواتر گھاس اور پتوں پر گزارہ کیا۔ آخر ایک اجنبی انسان ملا اور اس نے ایک تھیلی دی جس میں دینار تھے۔
حفص بن عمر الاشقر آپ کے بصرہ کے ہم سبق بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ کئی روز تک شریک درس نہ ہوئے۔ معلوم ہوا کہ خرچ ختم ہو گیا تھا اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ آپ کو بدن کے کپڑے بھی فروخت کرنے پڑ گئے۔ چنانچہ ہم نے آپ کے لئے امدادی چندہ کر کے کپڑے تیار کرائے تب آپ درس میں حاضر ہوئے۔
ابوالحسن یوسف بن ابی ذربخاری کہتے ہیں کہ اسی فقر کیشی کی وجہ سے ایک دفعہ حضرت امام علیل ہوگئے۔ طبیبوں نے آپ کا قارورہ دیکھ کر فیصلہ کیا کہ کہ یہ قارورہ ایسے درویشوں کے قارورے سے مشابہت رکھتا ہے جو روٹیوں کے ساتھہ سالن کا استعمال نہیں کرتے۔ جو صرف سوکھی روٹیاں کھا کر گزارہ کیا کرتے ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ چالیس سال سے آپ کا یہی عمل ہے کہ صرف سوکھی روٹی کھا کر گزارہ کرتے رہے ہیں۔ عرض کیا گیا کہ اطباء نے آپ کے علاج میں سالن کھانا تجویز کیا ہے۔ آپ نے یہ سن کر علاج سے انکار کر دیا ۔ جب آپ کے شیوخ نے بہت مجبور کیا تو روٹیوں کے ساتھہ شکر کھانی منظور فرمائی۔
ابو حفص نامی بزرگ آپ کے والد ماجد کے خاص تلامذہ میں سے ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ کچھہ مال آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ اتفاق حسنہ کہ شام کو بعض تاجروں نے اسی مال پر پانچ ہزار منافع دے کر اسے خریدنا چاہا۔ آپ نے فرمایا کہ صبح بات پختہ کروں گا۔ صبح ہوئی تو دوسرے تاجر پہنچے اور انہوں نے دس ہزار منافع دے کر وہ مال خریدنا چاہا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے شام کو آنے والے اور صرف پانچ ہزار دینے والے تاجر کو یہ مال دے دینے کی نیت کر لی تھی۔ اب میں اپنی نیت کو توڑنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ آپ نے دس ہزار کے نفع کو چھوڑ دیا اور پہلے تاجر ہی کے مال حوالہ فرما دیا۔

 

اخلاص

 

مزاج میں انتہا درجہ کی رحمدلی اور نرمی اللہ نے بخشی تھی۔ ایک دفعہ آپ کا ایک مضارب (شریک تجارت، پارٹنر) آپ کے 25 ہزار درہم دبا بیٹھا ۔ آپ کے بعض شاگردوں(محمد بن ابی حاتم وغیرہ) نے کہا کہ وہ قرضدار شہر آمل میں آگیا ہے اب اس سے روپیہ وصول کرنے میں آسانی ہو گی۔ آپ نے فرمایا کہ میں قرض دار کو پریشانی میں ڈالنا نہیں چاہتا ۔ قرض دار خوف سے خوارزم چلا گیا۔ آپ سے کہا گیا کہ گورنر کی طرف سے ایک خط حاکم خوارزم کو لکھوا کر اسے گرفتار کرا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں حکومت سے ایک خط کے لئے طمع کروں گا اس کے عوض حکومت کل میرے دین میں طمع کرے گی میں یہ بوجھہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بالآخر امام نے مقروض سے اس بات پر مصالحت کر لی کہ وہ ہر ماہ ایک مخصوص رقم حضرت کو ادا کیا کرے گا۔ لیکن وہ تمام روپیہ ضائع ہو گیا اور وہ امام کا ایک پیسہ بھی نہ واپس کر سکا۔ مگر آپ نے حلم و عفو کا دامن ہاتھہ سے نہیں چھوڑا ۔

امام کرمانی کا بیان ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کئی کئی دن مسلسل بغیر کھائے پئے گزار دیا کرتے تھے۔ اور کبھی صرف دو تین بادام کھا لینا ہی ان کے لئے کافی ہو جاتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھہ وہ بہت ہی سخی اور غرباء نواز و مساکین دوست انسان تھے۔ اپنی تجارت سے حاصل شدہ نفع طلبہ و محدثین پر صرف فرما دیتے تھے۔ ہر ماہ فقراء و مساکین و طلبہ و محدثین کے لئے پانچ سو درہم تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ بے نفسی کا یہ عالم کہ ایک دفعہ آپ کی ایک لونڈی گھر میں اس طرف سے گزری جہاں آپ کاغذ ، دوات ، قلم وغیرہ رکھا کرتے تھے۔ اس باندی کی ٹھوکر سے آپ کی دوات کی ساری روشنائی فرش پر پھیل گئی۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حرکت پر باندی کو ٹوکا تو اس نے جواب دیا کہ جب کسی جانب راستہ ہی نہ ہو تو کیا کیا جائے۔ حضرت امام بخاری اس نامعقول جواب سے برانگیختہ نہیں ہوئے بلکہ ہاتھہ دراز کر کے فرمایا کہہ جاﺅ میں نے تم کو آزاد کر دیا۔ اس پر آپ سے پوچھا گیا کہ اس نے تو ناراضگی کا کام کیا تھا آپ نے اسے آزاد کیوں فرما دیا آپ نے کہا اس کے اس کام سے میں نے اپنے نفس کی اصلاح کر لی اور اسی خوشی میں اسے پروانہ آزادی دے دیا۔

ایک مرتبہ آپ نے ابومعشر ایک نابینا بزرگ سے فرمایا کہ اے ابو معشر تم مجھے معاف کر دو۔ انہوں نے حیرت واستعجاب کے ساتھہ کہا کہ حضرت یہ معافی کس بات کی ہے؟ آپ نے بتلایا کہ آپ ایک مرتبہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرط مسرت میں انوکھے انداز سے اپنے سر اور ہاتھوں کو حرکت دے رہے تھے۔ جس پر مجھہ کو ہنسی آگئی۔ میں آپ کی شان میں اسی گستاخی کے لئے آپ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ ابومعشر نے جواب میں عرض کیا کہ اے حضرت امام آپ سے کسی قسم کی باز پرس نہیں ہے۔

خالد بن احمد ذہلی حاکم بخارا نے ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ آپ دربار شاہی میں تشریف لا کر مجھے اور میرے شہزادوں کو صحیح بخاری اور تاریخ کا درس دیا کریں۔ آپ نے قاصد کی زبانی کہلا بھیجا کہ میں آپ کے دربار میں آکر شاہی خوشامدیوں کی فہرست میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ مجھے علم کی بے قدری گوارا ہے۔ حاکم نے دوبارہ کہلوایا کہ پھرشاہزادوں کے لئے کوئی وقت مخصوص فرما دیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ میراث نبوت میں کسی امیر غریب کا امتیاز نہیں ہے۔ اس لئے میں اس سے بھی معذور ہوں۔ اگر حاکم بخارا کو میرا یہ جواب ناگوار خاطر ہو تو جبرا میرا درس حدیث روک سکتے ہیں تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار یں عذر خواہی کر سکوں۔ ان جوابات سے حاکم بخارا سخت برہم ہوئے اور اس نے حضرت امام کو بخارا سے نکالنے کی سازش کی۔

 

اتباع سنت

 

عبادت میں آپ کا استغراق اس درجہ تھا کہ امام کو ایک باغ میں مدعو کیا گیا۔ جب امام ظہر کی نماز سے فارغ ہوگئے تو نوافل کی نیت باندھ لی۔ نماز سے فراغت کے بعد قمیص کا دامن اٹھا کر کسی سے فرمایا کہ دیکھنا قمیض میں کوئی موذی جانور محسوس ہو رہا ہے۔ دیکھا گیا تو ایک زنبور نے سترہ جگہ ڈنگ لگائے تھے۔ اور جسم کے نیش زدہ حصوں پر ورم آرہا تھا۔ کہا گیا کہ آپ نے پہلی ہی بار کیوں نہ نماز چھوڑ دی۔ امام نے فرمایا کہ میں نے ایک ایسی سورة شروع کر رکھی تھی کہ درمیان میں اس کا قطع کرنا گوارا نہ ہوا۔ آخر رات میں تیرہ رکعتوں کا آپ ہمیشہ معمول رکھتے تھے۔ اسوہ حسنہ کی پیروی میں تہجد کی نماز کبھی ترک نہ فرماتے۔ رمضان شریف میں نماز تراویح سے فارغ ہو کر نصف شب سے لے کر سحر تک خلوت میں تلاوت قرآن پاک فرماتے اور ہر تیسرے دن ایک قرآن کریم ختم فرما دیتے اور دعا کرتے اور فرماتے کہ ہر ختم پر ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔

اتباع سنت کا اس قدر جذبہ تھا کہ خالص اسوہ حسنہ کے پیش نظر تیر اندازی کی مشق فرمائی۔ اس قدر کہ آپ کا نشانہ کبھی چوکتا نہیں دیکھا گیا ایک دفعہ آپ کا تیر ایک پل کی میخ پر جا لگا جس سے پل کا نقصان ہو گیا۔ آپ نے پل کے مالک سے درخواست کی کہ یا تو پل کی مرمت کے لئے اجازت دی جائے یا اس کا تاوان لے لیا جائے تاکہ ہماری غلطی کی تلافی ہوسکے۔ پل کے مالک حمید بن الاخضر نے جواب میں آپ کو بہت بہت سلام کہلا بھیجا اور کہا کہ آپ بہر حال صورت بے قصور ہیں۔ میری تمام دولت آپ پر قربان ہے۔ پیغام پہنچنے پر آپ نے پانچ سواحادیث بیان فرمائی اور تین سو درہم بطور صدقہ فقراء و مساکین میں تقسیم فرمائے ۔ مقدمہ فتح الباری

 

امیرا لمومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بغداد میں

 

عباسی حکومت کا پایہ تخت بغداد کبھی دنیائے اسلام کا مرکز اور اسلامی علوم و فنون کا بیش بہا مخزن رہ چکا ہے۔ یہی حضرت سید المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ کی شہرت و علمی قبولیت کا زمانہ ہے۔ متکلمین و محدثین فقہاء ومفسرین اطراف عالم سے سمٹ سمٹ کر بغداد میں جمع ہو چکے تھے۔ اس دور میں حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بغداد میں تشریف لائے۔ پورا بغداد آپ کی شہرت سے گونج اٹھا ۔ ہر مسجد ہر مدرسہ ہر خانقاہ میں آپ کے ذہن و حفظ و ذہانت و مہارت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ آخر دارالخلافہ کے بعض محدثین نے آپ کے امتحان کی ایک ترکیب سوچی وہ یہ کہ سو احادیث نبوی میں سے ہر حدیث کی سند دوسری حدیث کے متن میں ملا دی اوران کو دس آدمیوں پر برابر تقسیم کر دیا اور مقررہ تاریخ پر مجمع عام میں آپ کے امتحان کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ مقررہ وقت پر سارا شہر امنڈ آیا۔ ان دس آدمیوں نے نمبروار اختلاط کی ہوئی احادیث امام صاحب کے سامنے پڑھنی شروع کیں۔ اور آپ سے استصواب چاہا۔ مگر آپ ہر شخص اور ہر حدیث کے بارے میں یہی فرماتے رہے کہ لا اعرفہ (میں اس حدیث کو نہیں جانتا) اس طرح جب سو احادیث ختم ہو چکیں تو لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں۔ کسی کا خیال تھا کہ امام حقیقت حال کو پہچان چکے ہیں۔ اور کسی کا خیال تھا کہ آپ نے محدثین بغداد کے سامنے سپر ڈال دی ہے۔

امام المحدثین اسی وقت کھڑے ہوکر پہلے سائل کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ اما حدیثک الاول فبھذا الاسناد خطاءو صوابہ کذا یعنی تم نے پہلی حدیث جس سند سے بیان کی تھی وہ غلط تھی اس کی اصل سند یہ ہے۔ اسی طرح آپ نے دسوں اشخاص کی سنائی ہوئی احادیث کو بالکل صحیح درست کر کے بہ ترتیب سوالات پڑھ کر سنا دیا۔ اس خداداد حافظہ و مہارت فن حدیث کو دیکھہ کر اہل بغداد حیرت زدہ ہوگئے۔ اور بالا تفاق تسلیم کر لیا کہ فن حدیث میں عصر حاضر میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

 

علم الاسناد میں امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کی مہارت تامہ

 

مشہور مقولہ ہے الا سناد من الدین ولو لا الاسناد لقال من شآءماشآءیعنی اسناد کا علم بھی دینی علوم میں داخل ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتی تو جو شخص جو کچھہ چاہتا کہہ ڈالتا ۔ اسی لئے محدث کامل کے لئے ضروری ہے کہ وہ متون احادیث کے ساتھہ تمام رواة حدیث کے بارے میں ان کی پیدائش اور وفات کے اوقات کی خبر رکھتا ہو۔ ان کے باہمی ملاقات کے سنین یاد ہوں۔ ان کے القاب اور کنیتیں یاد ہوں۔ اور جملہ راویوں کے الفاظ حدیث بھی پوری طرح ضبط ہوں۔ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ اس فن میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔

حافظ احمد بن حمدون کا بیان ہے کہ میں عثمان بن ابوسعید بن مروان کے جنازہ میں حاضر ہوا۔ امام بخاری بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس موقع پر امام محمد بن یحیٰی ذہلی نے امام بخاری سے اسمائے رواة اور علل احادیث کے سلسلہ میں کچھ پوچھا۔ امام بخاری نے اس قدر برجستگی سے جوابات عنایت فرمائے جیسے کوئی قل ھو اللہ احد تلاوت کرتا ہو۔

اصطلاح حدیث میں علت قادحہ اس پوشیدہ سبب کا نام ہے جس سے حدیث کی صحت مشکوک اور مجروح ہو جاتی ہے۔ علم حدیث میں کمال حاصل کرنے کے لئے صرف یہی ایک چیز ایسی اہم ہے جس کے لئے بے پناہ قوت حافظہ، ذہن رسا اور نقد و انتقاد کی کامل مہارت درکار ہے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کو باری تعالیٰ نے ان جملہ علوم میں مہارت تامہ عطافرمائی تھی۔

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نیشاپور میں مقیم تھے۔ اس زمانہ کا واقعہ ابو احمد اعمش بیان کرتے ہیں کہ میں امام بخاری کی مجلس میں حاضر ہوا ۔ امام مسلم تشریف لائے۔ اور ایک معلق حدیث کا درمیانی حصہ سنا کر پوچھا کہ یہ حدیث آپ کے پاس ہو تو اسے متصل فرما دیجئے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی وقت حدیث کو متصل السند پڑھ کر سنا دیا۔

اسی مجلس کا قصہ ہے کہ کسی نے یہ حدیث مع سند پڑھی ۔ حجاج بن محمد عن ۔ بن جریج عن موسی بن عقبة عن سھیل ابن ابی صالح عن ابیہ عن ابی ھریرة عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کفارة المجلس اذا قام العبد ان یقول سبحنک اللھم وبحمدک استغفرک واتوب الیک۔ سن کر امام مسلم بولے کہ اس حدیث کی اس سے اونچی سند ساری دنیا میں نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر اس کی سند معلول ہے۔ یہ سن کر امام مسلم رحمہ اللہ علیہ حیرت میں رہ گئے اور فرمانے لگے کہ علت سے آگاہی فرمائیے۔ حضرت امام نے فرمایا کہ رہنے دیجئے جس پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ آپ کو بھی اس پر پردہ ڈالنا چاہیے۔ مگر امام مسلم نے اصرار فرمایا تو آپ نے فرمایا ۔ اچھا سنو غیر معلول سلسلہ سند یوں ہے۔ حدثنا موسٰی بن اسمٰعیل حدثنا وھیب حدثنا موسی بن عقبة عن عون بن عبداللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفارة المجلس ۔۔۔ اذا الحدیث ۔ حدیث کی علت کے سلسلہ میں حضرت امام نے بتلایا کہ موسیٰ بن عقبہ کی کوئی حدیث سہیل سے مرفوع نہیں ہے۔ پھر اس کے لئے حضرت امام نے ثبوت پیش فرمایا۔ جسے سب حاضرین مجلس علمائے حدیث نے تسلیم کیا۔فتح الباری

 
 

 

   
 

صفحہ سوئم

صفحہ١ول

 
Untitled Document
islamic pictures
 
 
Untitled Document
رابطہ آپکی رائے ماہنامہ دارلعلوم  ماہنامہ ترجمان القرآن خواتین کا صفحہ بچوں کا صفحہ سائنسی خبرنامہ عالمی خبریں ہوم  
s