ماہنامہ دارلعلوم
عالمی خبریں
قاری وحید ظفر قاسمی::
اللہ ہواللہ ہو
عجب ہے کیف
آنکھ اٹھی تیرے لئے
عزل کی خوشبو
عربی نعت
اللہ نے یہ شان بڑھائی
گرطلب سے بھی سے بھئ کچھ
فاصلوں کو تکلف ہے
درودشریف
جس قدرعِزم بھی ہے
جمال روح تاباں کی میں
ہم سہ نہ سکیں گے
خدا کا ذکر کرے
کبھی زخم دل کا سجا لیا
کبھی ہم بھی ایک دن
لب پر نعت پاک کع نغمہ
کیا خبر کیا سزامجھکو ملتی
کوئی گفتگو ہو لب پر
مہ یاراہلِدین ہے
میں چپ کھڑاہواہوں
مدحت اس کی کیوں نی کریں
نام بھی تیرا عقیدت سے
نہ کہیں سے دہر ہے منزلیں
میرے وردِلب ہے نبی نبی
سوزِدل چاہیے چشم نم
سلآم کے لیے حاضر
یاوجہتی ول کرمی
ان کی نظر میں جب
طلاعل بدرعلینا
تیراکرم ہے جو شہ ذئ وقار
یارب میرئ سوئی ہوئی تقدیر
وہ اٹھا خاکِ بظحاسے
نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
زباں محوِ ثناءہے
زباں جودئ ہے تجھے
زہے مقدر حضور حق سے
زباں پہ صرف بے
نعتیں - | +